حدیث ۳۳۲۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۲۷

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فقَالَ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ ، قَالَ : وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " ، وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ ، وَزُهَيْرٍ ، عَنْدَ قَوْلِهِ : يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا : مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ ،

‏‏‏‏ ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کہ خطبہ پڑھا ہم پر سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے اور فرمایا: کہ جو دعویٰ کرے کہ ہمارے پاس (یعنی اہل بیت کے) کوئی اور چیز ہے سوا کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے اور راوی نے کہا کہ ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا ان کی تلوار کی میان میں تو اس نے جھوٹ کہا اور اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمریں (یعنی زکوٰۃ کے متعلقات) اور کچھ زخموں کا بیان تھا (یعنی ان کے قصاص اور دیتوں کا بیان) اور اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے عیر اور ثور کے بیچ میں سو جو شخص کہ کوئی نئی بات نکالے اس جگہ یا جگہ دے کسی نئی بات نکالنے والوں کو تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی، نہ قبول کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا کوئی فرض، نہ سنت اور امان دینا ہر مسلمان کا برابر ہے کہ اعتبار کیا جاتا ہے ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اور جس نے اپنے کو اپنے باپ کے سوا غیر کا فرزند ٹھہرایا یا اپنے آقاؤں کے سوا کسی دوسرے کا غلام اپنے کو قرار دیا، اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور نہ قبول کرے گا اس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ فرض، نہ سنت۔“ مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ روایت ابوبکر و زہیر کی تو وہیں تک ہو چکی کہ ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اعتبار ہے اور ان دونوں کی روایت میں یہ ذکر نہیں کہ صحیفہ تلوار کے میان میں لٹکا ہوا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں