حدیث ۳۵۷۸
صحیح مسلم : ۳۵۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۷۸
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، قَالَت : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ ، فَرَدَدْتُهُ ، قَالَ لِي هِشَامٌ : إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، قَالَ : " فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ يَدُكِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اجازت مانگی میرے پاس آنے کی میرے رضاعی چچا نے جن کی کنیت ابوالجعد تھی، سو میں نے ان کو اجازت نہ دی۔ ہشام نے کہا ابوالجعد ابولقعیس ہی ہیں۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کو کیوں نہ آنے دیا تمہارے داہنے ہاتھ میں خاک بھرے یا فرمایا ہاتھ میں۔“
