صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۲ - سفر میں نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت
سفر میں مدد کی حدیث: جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت
صحیح مسلم : ۳۶۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۲
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حدثنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ، قَالَ : فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ قَالَ : نَخَسَهُ أُرَاهُ ، قَالَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعَنِي حَتَّى إِنِّي لِأَكُفُّهُ ، قَالَ : فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ وَقَالَ لِي : " أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا " ، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ : فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ : افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ .
جابر روایت:
ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور میں ایک پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا سب لوگوں کے پیچھے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارا یا فرمایا چلایا، میں گمان کرتا ہوں کسی ایسی چیز سے مارا جو ان کے پاس تھی پھر تو وہ سب لوگوں سے آگے چل نکلا (یہ معجزہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) اور مجھ سے گویا لڑتا تھا اور میں اس کو روکتا تھا پھر فرمایا: ”تم اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو اتنی قیمت پر اللہ تم کو بخشے۔“میں نے عرض کی کہ وہ آپ کا ہے۔ پھر فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کیا اپنے باپ کے پیچھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہ ثیبہ یا باکرہ؟“ میں نے کہا: ثیبہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باکرہ کیوں نہ کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے۔“ ابونضرہ نے کہا کہ یہ مسلمان کا تکیہ کلام ہے کہ تم ایسا کرو اللہ تم کو بخشے (غرض اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے فرمایا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۲ کا خلاصہ
اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور ان کا پانی لانے والا اونٹ لوگوں کے پیچھے رہ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی چیز سے مارا یا چلایا تو وہ آگے بڑھنے لگا، یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ اسے روکنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ خریدنے کی بات کی اور جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ آپ کا ہے۔ اسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کے بارے میں بھی پوچھا۔ جب انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ثیبہ عورت سے نکاح کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری سے نکاح کی بات نرمی سے فرمائی۔ یہ حدیث سفر میں نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت، ساتھی کی مدد، اور نکاح کے معاملے میں نرم گفتگو کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں پیچھے رہ جانے والے ساتھی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے ان کے ذاتی حال کے بارے میں نرمی سے پوچھا۔
- خرید و فروخت کی بات بھی خوش اخلاقی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔
- گھریلو فیصلوں میں وجہ سننا اور سمجھنا اچھے اخلاق میں سے ہے۔
