حدیث ۳۷۰۴

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۰۴

حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، واللفظ لعبد ، قَالَا : أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا ، وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ ، فقَالَا لَهَا : وَاللَّهِ مَا لَكِ نَفَقَةٌ ، إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا ، فقَالَ : " لَا نَفَقَةَ لَكِ " ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالَ : فَأَذِنَ لَهَا ، فقَالَت : أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فقَالَ : " إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عَنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا ، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ : قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنِ الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَتْهُ بِهِ ، فقَالَ مَرْوَانُ : لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا ، فقَالَت فَاطِمَةُ : حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ ، فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الْآيَةَ ، قَالَت : هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ ، فَأَيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ ، فَكَيْفَ تَقُولُونَ : لَا نَفَقَةَ لَهَا ، إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلًا ، فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا .

‏‏‏‏ ابوعمرو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن گئے اور اپنی عورت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا ایک طلاق جو اس کی طلاقوں میں باقی تھی (یعنی دو پہلے ہو چکی تھیں) اور حارث اور عیاش دونوں کو کہلا بھیجا کہ اس کو نفقہ دینا ان دونوں نے کہا کہ تجھے نفقہ نہیں پہنچتا کہ جب تک تو حاملہ نہ ہو، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے حارث وغیرہ کی بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ کو نفقہ نہیں۔“ اور انہوں نے دوسرے گھر چلے جانے کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی انہوں نے عرض کی کہ کہاں جاؤں اے رسول اللہ تعالیٰ کے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے گھر کہ وہ نابینا تھےکہ وہاں اپنے کپڑے اتار کر بیٹھے اور وہ اس کو دیکھے بھی نہیں۔“ پھر جب عدت پوری ہو گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا اسامہ رضی اللہ عنہ سے۔ سو مروان نے فاطمہ کے پاس قبیصہ بن ذویب کو بھیجا کہ اس سے یہ حدیث پوچھ آئے سو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کر دی سو مروان نے کہا نہیں سنی ہم نے یہ حدیث مگر ایک عورت سے اور ہم ایسا امر قوی و معتبر کیوں نہ اختیار کریں جس پر سب لوگوں کو پاتے ہیں۔ پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مروان کی بات پہنچی کہ وہ کہتا ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”نہ نکالو ان کو ان کے گھروں سے۔“ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ حکم تو اس کے لیے ہے جس سے رجعت ہو سکتی ہے اور تین طلاقوں کے بعد پھر کون سی بات نئی پیدا ہو سکتی ہے پھر تم کیونکر کہتے ہو اس کو نفقہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو تو پھر اسے کس بھروسے روکتے ہو۔ (یعنی نان نفقہ بھی نہیں دیتے تو پھر کیوں روکتے ہو)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں