صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۱ - ربا والی بیع میں برابری اور نقدی کی شرط
ربا کی حدیث: سونا، چاندی اور اناج کی بیع کا صاف اصول
صحیح مسلم : ۴۰۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۱
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ ، فَجَاءَ أَبُو الْأَشْعَثِ ، قَالَ : قَالُوا : أَبُو الْأَشْعَثِ ، أَبُو الْأَشْعَثِ ، فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ ، فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ ، فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ ، فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، عَيْنًا بِعَيْنٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ ، فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ ، فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ، ثُمَّ قَالَ : لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ أَوَ قَالَ : وَإِنْ رَغِمَ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ " ، قَالَ حَمَّادٌ : هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ،
ابوقلابہ روایت:
میں شام میں چند لوگوں کے بیچ میں بیٹھا تھا اتنے میں ابوالاشعث آیا لوگوں نے کہا: ابوالاشعث، ابوالاشعث۔ وہ بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا: تم میرے بھائی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرو اس نے کہا: اچھا ہم نے ایک جہاد کیا اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سردار تھے تو بہت چیزیں لوٹ میں حاصل کیں ان میں ایک برتن بھی تھا چاندی کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اس کے بیچنے کا لوگوں کی تنخواہ پر اور لوگوں نے جلدی کی اس کے لینے میں۔یہ خبر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی وہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے سونے کو سونے کے بدلے میں بیچنے سے اور چاندی کو چاندی کے بدلے اور گیہوں کو گیہوں کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے مگر برابر برابر نقدا نقد پھر جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو «ربا» ہو گیا۔“ یہ سن کر لوگوں نے جو لیا تھا پھیر دیا۔سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی وہ خطبہ پڑھنے لگے کھڑے ہو کر، کیا حال ہے لوگوں کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیثیں روایت کرتے ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، پھر عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور قصہ بیان کیا بعد اس کے کہا: ہم تو وہ حدیث ضرور بیان کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا معلوم ہو یا یوں کہا: اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذلت ہو میں پرواہ نہیں کرتا اگر ان کے ساتھ نہ رہوں ان کے لشکر میں تاریک رات میں۔حماد نے کہا یا ایسا ہی کہا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث خرید و فروخت میں سود یعنی ربا سے بچنے کا بنیادی اصول بتاتی ہے۔ روایت میں چاندی کے برتن کی بیع کا واقعہ آیا، پھر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنایا کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے صرف برابر برابر اور نقدا نقد بیچے جائیں۔ اگر ایک ہی جنس میں کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے تو یہ ربا ہے۔ اس حدیث کا خاص پیغام یہ ہے کہ دینی حکم معلوم ہو جائے تو اسے صاف انداز میں بیان کیا جائے، چاہے لوگوں کو پہلے سے اس کا علم نہ ہو۔ یہاں اصل زور حلال تجارت، برابر تول اور سود سے بچنے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کی چیز کا تبادلہ ہو تو مقدار برابر ہونی چاہیے۔
- ایسی بیع میں ادھار کے بجائے نقد لین دین کا حکم بیان ہوا ہے۔
- زیادہ دینا یا زیادہ لینا اسی صورت میں ربا قرار دیا گیا ہے۔
- سنی ہوئی صحیح حدیث کو ضرورت کے وقت بیان کرنا اہم ذمہ داری ہے۔
