صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۱ - چاندی کی ادھار بیع اور ربا

چاندی کی ادھار بیع: ربا سے بچنے کا صاف حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : " بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَى الْحَجِّ ، فَجَاءَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي ، فَقُلْتُ : هَذَا أَمْرٌ لَا يَصْلُحُ ، قَالَ : قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ ، فَقَالَ : مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا " ، وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ .

ابوالمنہال روایت:

میرے ایک شریک نے چاندی بیچی ادھار حج کے موسم تک وہ مجھ سے پوچھنے آیا میں نے کہا: یہ تو درست نہیں اس نے کہا: میں نے بازار میں بیچی اور کسی نے منع نہیں کیا، پھر میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور ہم ایسی بیع کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نقدا نقد ہو تو قباحت نہیں اور جو ادھار ہو تو سود ہے۔“ اور تو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جا ان کی سوداگری مجھ سے زیادہ ہے (تو وہ اس مسئلہ سے بخوبی واقف ہوں گے) میں ان کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۱ کا خلاصہ

یہ حدیث ایک عملی سوال سے شروع ہوتی ہے۔ ابوالمنہال کے شریک نے چاندی ادھار بیچی، پھر انہوں نے اس معاملے کے بارے میں پوچھا۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ ایسی بیع کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہاتھوں ہاتھ ہو اس میں قباحت نہیں، اور جو ادھار ہو وہ ربا ہے۔ اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ بازار میں کسی کا منع نہ کرنا کافی دلیل نہیں سمجھا گیا، بلکہ صحابی سے پوچھا گیا اور پھر دوسرے صحابی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی رجوع کیا گیا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ چاندی یا صرف کے معاملے میں ادھار سے بچا جائے، اور لین دین واضح طور پر نقد ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بازار میں رواج ہونا کسی معاملے کے درست ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔
  • چاندی کا ہاتھوں ہاتھ معاملہ اس روایت میں درست بتایا گیا ہے۔
  • ادھار بیع کو اس خاص صورت میں ربا کہا گیا ہے۔
  • مسئلہ سمجھ نہ آئے تو علم والے صحابی سے پوچھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں