صحیح مسلم حدیث ۴۱۲۸ - سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
صحیح مسلم : ۴۱۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا ہر ایک مشترک مال میں جو بٹا نہ ہو، زمین ہو یا باغ۔ ایک شریک کو درست نہیں کہ دوسرے شریک کو اطلاع دیئے بغیر اپنا حصہ بیچ ڈالے، پھر دوسرے شریک کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے، اب اگر بغیر اطلاع کے بیچ ڈالے تو وہ شریک زیادہ حقدار ہے۔ (غیر شخص سے اسی دام کو خود لے سکتا ہے)۔
