حدیث ۴۲۲۴
صحیح مسلم : ۴۲۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۲۴
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ ، فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ ؟ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُبْتَاعُ ، وَلَا يُورَثُ ، وَلَا يُوهَبُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الْقُرْبَى ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا ، أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا ، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا " ،
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک زمین ملی خیبر میں تو وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کرنے اس باب میں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے۔ ایسا عمدہ مال مجھ کو کبھی نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم کرتے ہیں اس کے باب میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”اگر تو چاہے تو زمین کی ملکیت کو روک رکھے (یعنی اصل زمین کو) اور صدقہ دے اس کو۔“ ”(یعنی اس کی منفعت کو) پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا اس شرط پر کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ خریدی جائے، نہ وہ کسی کی میراث میں آئے، نہ ہبہ کی جائے اور صدقہ کر دیا اس کو فقیروں اور رشتہ داروں میں اور غلاموں میں (یعنی ان کی آزادی میں مدد دینے کے لئے) اور مسافروں میں اور ناتواں لوگوں میں (یا مہمان کی مہمانی میں) اور جو کوئی اس کا انتظام کرے وہ اس میں سے کھائے دستور کے موافق یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال اکٹھا نہ کرے (یعنی روپیہ جوڑنے کی نیت سے اس میں تصرف نہ کرے)۔
