حدیث ۴۳۴۹
صحیح مسلم : ۴۳۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴۹
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، " أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ أَوْ فَقِيرٍ ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : كَبِّرْ كَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ، قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ ، فَوَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ ، فَقَالَ سَهْلٌ : " فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ " .
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی اس کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں خیبر کی طرف گئے تکلیف کی وجہ سے جو ان پر آئی تو محیصہ سے کسی نے کہا: عبداللہ بن سہل مارے گئے اور ان کی نعش چشمہ یا کنواں میں پھینک دی ہے۔ وہ یہود کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: قسم اللہ کی تم نے اس کو مارا ہے۔ یہودیوں نے کہا: قسم اللہ کی ہم نے اس کو نہیں مارا۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا، پھر سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اور ان کا بھائی حویصہ رضی اللہ عنہ جو اس سے بڑا تھا اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ تینوں آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہیی وہی خیبر کو گیا تھا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محیصہ رضی اللہ عنہ سے ”بڑے کی بڑائی کر اور بڑے کو کہنے دے۔“ پھر حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی بعد اس کے محیصہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہود تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کریں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا اس بارے میں۔ انہوں نے جواب میں لکھا، قسم اللہ کی! ہم نے نہیں مارا اس کو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تم قسم کھاتے ہو اور اپنے ساتھی کا خون لیتے ہو۔“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہود قسم کھائیں گے تمہارے لیے۔“ انہوں نے کہا: وہ مسلمان نہیں ہیں ان کی قسم کیا کیا اعتبار، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی اور سو اونٹ ان کے پاس بھیجے یہاں تک کہ ان کے گھر میں گئے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
