حدیث ۴۴۱۰
صحیح مسلم : ۴۴۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۱۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ ، ثُمَّ قَامَ ، فَاخْتَطَبَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ ، تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، قریش کو فکر پیدا ہوئی مخزومی عورت کی چوری کرنے سے (کیونکہ وہ قوم کی شریف تھی) انہوں نے کہا: کون کہہ سکتا ہے اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ لوگوں نے کہا: اتنی جرأت تو کسی میں نہیں البتہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہیتا ہے وہ کہے تو کہے (کیونکہ اسامہ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لے پالک بیٹے تھے) آخر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسامہ! تو سفارش کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حد میں۔“ (جب امام تک حد کا مقدمہ پہنچ جائے تو سفارش کرنا درست نہیں، البتہ اس سے قبل بعض کے نزدیک جائز ہے بشرطیکہ مجرم شریر نہ ہو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ سنایا اور فرمایا: ” «اے لوگو» ! پہلے لوگ انہی کرتوتوں سے تباہ ہوئے جب کوئی اچھا شریف آدمی ان میں کا چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی ناتوں (بے وسیلہ) ایسا کرتا تو اس پر حد قائم کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔“
