حدیث ۴۴۳۳
صحیح مسلم : ۴۴۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۳۳
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَدَعَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا ، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا ، فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَقَدْ زَنَتْ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَى ؟ " ،
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت جہینہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ حاملہ تھی زنا سے اس نے کہا: اے نبی اللہ کے! میں نے حد کا کام کیا ہے تو مجھ کو حد لگائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا: ”اس کو اچھی طرح رکھ جب وہ جنے تو میرے پاس لے کر آ۔“ اس نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو حکم دیا اس کے کپڑے مضبوط باندھے گئے تاکہ ستر نہ کھلے (نووی رحمہ اللہ نے کہا: عورت کو بٹھا کر رجم کریں گے اور مرد کو کھڑا کر کے جمہور کا یہی قول ہے۔ اور مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مرد کو بھی بٹھائیں گے اور بعض نے کہا امام کو اختیار ہے۔) پھر حکم دیا وہ رجم کی گئی بعد اس کے اس پر نماز پڑھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں اس نے تو زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے توبہ بھی تو کی اور ایسی توبہ کی کہ اگر مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو کافی ہو جائے سبب کو اور تو نے اس سے بہتر توبہ کون سی دیکھی کہ اس نے اپنی جان اللہ کے واسطے دے دی۔“
