صحیح مسلم حدیث ۴۴۳۵ - عدل کا فیصلہ
عدل کا فیصلہ: زنا کے مقدمے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم
صحیح مسلم : ۴۴۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۳۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا قَالَا : " إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ : الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْ قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا ، قَالَ : فَغَدَا عَلَيْهَا ، فَاعْتَرَفَتْ ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ " ،
ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی روایت:
ایک جنگلی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ میرا فیصلہ اللہ کی کتاب کے موافق کر دیجئے۔ دوسرا اس کا حریف وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا بولا: بہت اچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی کتاب کے موافق حکم کیجئیے۔ اور اذن دیجئیے مجھ کو بات کرنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ۔“اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے گھر نوکر تھا اس نے زنا کیا اس کی بی بی سے، مجھ سے لوگوں نے کہا: تیرے بیٹے پر رجم ہے میں نے اس کا بدل دیا سو بکریاں اور ایک لونڈی، پھر میں نے عالموں سے پوچھا انہوں نے کہا: تیرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہئیں اور ایک برس تک جلا وطن اور اس کی بی بی پر رجم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم دونوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق کروں گا لونڈی اور بکریاں تو پھیر لے اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک برس تک جلاوطن رہے اور اے انیس! (بن ضحاک اسلمی جو صحابی ہیں) صبح کو تو اس کی عورت کے پاس جا اگر وہ اقرار کرے زنا کا تو اس کو رجم کر۔“ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اس نے اقرار کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ رجم کی گئی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک دیہاتی شخص اور اس کے حریف کا واقعہ ہے۔ دونوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ چاہا۔ حریف نے بتایا کہ اس کا بیٹا دوسرے شخص کے گھر مزدور تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ اس نے پہلے غلط سمجھ کر سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی، پھر اہل علم سے پوچھا تو بتایا گیا کہ بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے، اور عورت پر رجم ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے لونڈی اور بکریاں واپس کرائیں، بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کا حکم دیا، اور انیس رضی اللہ عنہ کو عورت کے پاس بھیجا کہ اگر وہ اقرار کرے تو رجم کیا جائے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عدل کا فیصلہ اور زنا کا شرعی مقدمہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق کیا گیا۔
- غلط فدیہ واپس کرایا گیا۔
- غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کا حکم آیا۔
- عورت کے اقرار کے بعد سزا نافذ کی گئی۔
