صحیح مسلم حدیث ۴۴۵ - اللہ نہیں سوتا اور اس کا حجاب نور ہے

اللہ نہیں سوتا: اعمال، ترازو اور حجابِ نور کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ ، حِجَابُهُ النُّورُ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ ، مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ : وَلَمْ يَقُلْ .

ابوموسیٰ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کھڑے ہو کر پانچ باتیں سنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جل جلالہ نہیں سوتا اور سونا اس کے لائق نہیں (کیونکہ عضلات اور اعضائے بدن کی تھکاوٹ سے ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پاک ہے تھکن سے۔ دوسرے یہ کہ سونا غفلت ہے اور مثل موت کے ہے اور حق تعالیٰ پاک ہے اس سے) جھکاتا ہے ترازو کو اور اونچا کرتا ہے اس کو۔ اٹھایا جاتا ہے، اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے، اس کا پردہ نور ہے۔“ابوبکر کی روایت میں ہے کہ ”پردہ وہ اس کا آگ ہے اور اگر وہ کھول دے اس پردے کو البتہ اس کے منہ کی شعاعیں جلائیں مخلوق کو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اس کے لائق نہیں۔ پھر ترازو کو جھکانے اور اٹھانے کا ذکر آیا، اور یہ بتایا گیا کہ رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ اسی روایت میں اللہ کے حجاب کو نور کہا گیا، اور ایک روایت میں آگ کا لفظ آیا۔ اس حدیث میں اللہ کی عظمت، اعمال کا پیش ہونا، اور حجابِ نور جیسے عقیدے کے اہم الفاظ موجود ہیں۔ ہمیں ان باتوں کو اسی ادب کے ساتھ ماننا چاہیے جس طرح حدیث میں آیا ہے، بغیر اپنی طرف سے کیفیت بیان کیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ نیند اور تھکن سے پاک ہے۔
  • انسان کے اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف پیش کیے جاتے ہیں۔
  • اللہ کے حجابِ نور کا ذکر حدیث کے الفاظ کے مطابق ماننا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں