حدیث ۴۶۶۹
صحیح مسلم : ۴۶۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۶۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَكَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ هَذَا ؟ ، قُلْتُ : قَالَهُ أَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بنِ الأَكْوَعِ ، فَحَدَثَنيِ عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : حِينَ قُلُتُ إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاةَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ : " كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَتَيْنِ " وَأَشَارَ بِإصبَعَيهِ .
سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب خیبر کی لڑائی ہوئی تو میرا بھائی (عامر بن اکوع) خوب لڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر۔ اس کی تلوار خود اس پر پلٹ گئی، وہ مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اس کے باب میں گفتگو کی اور شکایت کی اس کے باب میں۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت دیجئیے رجز پڑھنے کی (رجز وہ موزوں کلام سے ایک بحر ہے شعر کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے جو تم کہو گے۔ پھر میں نے کہا ان شعروں کو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ”قسم اللہ کی اگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہ کرتا ہم کو تو ہم کبھی راہ نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ کہا تو نے۔“ پھر میں نے کہا: ”اتار اپنی رحمت ہم پر اور جما دے ہمارے پاؤں کو اگر ہمارا سامنا ہو کافروں سے اور مشرکوں سے۔ اور مشرکوں نے ہجوم کیا ہم پر“ جب میں اپنی رجز پڑھ چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کس کا کلام ہے۔“ میں نے عرض کیا میرے بھائی کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رحم کرے اس پر۔“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض لوگ تو اس پر نماز پڑھنے سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ اپنے ہتھیار سے مرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو جاہد اور مجاہد ہو کر مرا۔“ ابن شہاب نے کہا: میں نے سلمہ کے بیٹے سے پوچھا: تو اس نے یہی حدیث اپنے باپ سے روایت کی۔ صرف اس نے یہ کہا کہ جب میں نے یہ کہا کہ بعض لوگ اس پر نماز پڑھنے سے ڈرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جھوٹے ہیں وہ تو جاہد اور مجاہد ہو کر مرا اور اس کو دوہرا ثواب ہے۔“ اور اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے۔
