صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۵ - بچوں کو قتل نہ کرنے کی تاکید
بچوں کو قتل نہ کرو: ابن عباسؓ کی واضح نصیحت
صحیح مسلم : ۴۶۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ .
یزید بن ہرمز روایت:
نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا ان سے پوچھتا تھا کئی باتیں، بیان کیا حدیث کو اسی طرح، اس روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکوں کو نہیں مارتے تھے تو بھی لڑکوں کو مت مار مگر تجھ کو ایسا علم ہو جیسے خضر علیہ السلام کو تھا جب انہوں نے ایک لڑکے کو مار ڈالا تھا۔ اسحاق کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ تو تمیز کرے مومن کی پھر قتل کرے کافر کو اور چھوڑ دے مومن کو(یعنی تو پہچان لے کہ کون سا بچہ بڑا ہو کر مومن ہو گا اور کون سا کافر اور یہ محال ہے اس لیے قتل بھی بچوں کا ناجائز ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون کو ایک خاص نکتے کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب میں صاف ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے، اس لیے تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو۔ پھر خضر علیہ السلام کے واقعے کا حوالہ آیا، جس کا مطلب متن کے دائرے میں یہی ہے کہ عام آدمی کو ایسا خاص علم حاصل نہیں ہوتا جس سے وہ کسی بچے کے مستقبل کا فیصلہ کر سکے۔ اس لیے بچوں کے قتل کی ممانعت بہت واضح رہتی ہے۔ جو لوگ بچوں کے قتل کی حدیث، جنگ میں بچوں کا حکم، یا لا تقتل الصبیان تلاش کرتے ہیں، اس روایت میں انہیں سیدھا جواب ملتا ہے: نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ بچوں کو قتل کرنا نہیں تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔
- عام انسان کے پاس خضر علیہ السلام جیسا خاص علم نہیں ہوتا۔
- بچوں کے معاملے میں احتیاط اور منع کا حکم واضح ہے۔
