صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۵ - حاکم کی نافرمانی اور معصیت سے نفرت
حاکم کی معصیت دیکھ کر مسلمان کا درست رویہ
صحیح مسلم : ۴۸۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۰۵
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ، قَالُوا : قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : لَا ، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ ، لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ ، وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ " ، قَالَ ابْنُ جَابِرٍ : فَقُلْتُ : يَعْنِي لِرُزَيْقٍ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَكَ بِهَذَا أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
عوف بن مالک روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بہتر حاکم تمہارے وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو وہ تم کو چاہتے ہیں تم ان کے لیے دعا کرتے ہو وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور برے حاکم تمہارے وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان پر لعنت کرتے ہو وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ایسے برے حاکم کو ہم دور نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک نماز پڑھتے رہیں لیکن جب کوئی کسی حاکم کو گناہ کی بات کرتے دیکھے تو اس کو برا جانے اور اس کی اطاعت سے باہر نہ ہو۔“ابن جابر نے کہا: جو راوی ہے اس حدیث کا میں نے رزیق بن حیان سے کہا جب انہوں نے یہ حدیث بیان کی اے ابوالمقدام تو نے مسلمہ بن قریظہ سے یہ حدیث بیان کی وہ کہتے تھے میں نے عوف سے سنی وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ یہ سن کر رزیق اپنے گھٹنوں کے بل جھکے اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور کہا: بیشک قسم اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے میں نے اس حدیث کو مسلم بن قرظہ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے عوف بن مالک سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے حکمرانوں کے بارے میں نہایت واضح ہدایت ملتی ہے۔ اچھے حکمران وہ ہیں جن کے ساتھ محبت، خیر خواہی اور دعا کا تعلق ہو۔ برے حکمران وہ ہیں جن کے ساتھ نفرت، بددعا اور دوری کا ماحول پیدا ہو جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا ایسے وقت انہیں ہٹا دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ پھر خاص طور پر فرمایا کہ جو شخص اپنے حاکم کو اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے دیکھے، وہ اس معصیت کو برا جانے، مگر اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔ یہاں حاکم کی اطاعت حدیث، معصیت سے نفرت اور نماز قائم کرنے والے حکمران کا مضمون صاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاکم کی معصیت کو دل سے برا جاننا چاہیے۔
- نماز قائم رہنے تک بغاوت کی راہ سے منع کیا گیا ہے۔
- محبت اور دعا اچھے حکمرانی تعلق کی علامت ہے۔
- غلطی دیکھ کر بھی آدمی کو فتنہ سے بچنا چاہیے۔
