حدیث ۵۰۳
صحیح مسلم : ۵۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا ، فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری، «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ”ڈرا، تو اپنے کنبے والوں کو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی اور اے صفیہ! عبدالمطلب کی بیٹی اور اے عبدالمطلب کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تم کو نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے تم جو جی چاہے مانگ لو۔“
