حدیث ۵۰۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا : " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ ، إِنِّي نَذِيرٌ ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ : يَا صَبَاحَاهْ " ،

‏‏‏‏ سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ اور سیدنا زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ دونوں نے کہا جب یہ آیت اتری: «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ”ڈرا تو اپنے نزدیکی ناتے والوں کو“ تو رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے ایک پتھر پر گئے اور سب سے اونچے پتھر پر کھڑے ہوئے پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کے بیٹو! میں ڈرانے والا ہوں، میری مثال اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے دشمن کو دیکھا پھر وہ چلا اپنے اہل کو بچانے کو اور ڈرا کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو لگا پکارنے یا صباحاہ!۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں