حدیث ۵۱۲۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۲۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ ، كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، قَالَ : فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .

‏‏‏‏ ابوالطفیل سے روایت ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا آپ کو خاص بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات سے؟ انہوں نے کہا: ہم سے کوئی خاص بات نہیں فرمائی جو سب لوگوں سے نہ فرمایا ہو، البتہ چند باتیں ہیں جو میری تلوار کے غلاف میں ہیں، پھر انہوں نے کہا: کہ آپ نے ایک کاغذ نکالا جس میں لکھا تھا لعنت کی اللہ نے اس پر جو ذبح کرے جانور کو سوائے اللہ کے اور کسی کے لیے اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو زمین کی نشانی چرائے، اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو لعنت کرے اپنے باپ پر اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو جگہ دے بدعتی کو (یعنی بدعتی کو اپنے گھر اتارے یا اس کی مدد کرے۔ معاذ اللہ! بدعت یعنی دین میں نئی بات نکالنا جس کی دلیل کتاب و سنت سے نہ ہو کتنا بڑا گناہ ہے جب بدعتی کے مددگار پر لعنت ہوئی تو خود بدعت نکالنے والے پر کتنی بڑی پھٹکار ہو گی اللہ بچائے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں