حدیث ۵۱۲۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۲۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى ، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ ، فَقَالَتْ : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ : وَمِنَ السَّنَامِ ؟ ، قَالَ : قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عَلِيٌّ : فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي ، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ " .

‏‏‏‏ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مجھے ایک اونٹنی ملی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لوٹ میں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی مجھے اور دی، میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھایا اور میرا ارادہ یہ تھا کہ ان پر اذخر (ایک گھاس ہے خوشبودار) لاد کر لاؤں اور بیچوں اور میرے ساتھ ایک سنار بھی تھا بنی قینقاع (یہود کا ایک قبیلہ تھا) میں سے اور مجھے مدد ملی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کے لیے (یعنی ان کے ساتھ جو میں نے نکاح کیا تھا تو ولیمہ نہیں کیا تھا، پس میرا قصد یہ تھا کہ اذخر لا کر بیچ کر پیسہ کماؤں اور ولیمہ کروں) اور اسی گھر میں (جس کے دروازے پر میں اونٹنیاں بٹھا گیا تھا) حمزہ بن عبدالمطلب (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء رضی اللہ عنہ) شراب پی رہے تھے (اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی) ان کے پاس ایک لونڈی تھی، جو گا رہی تھی، آخر اس نے یہ گایا «‏‏‏‏أَلاَ يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ...» ‏‏‏‏ یہ سن کر حمزہ اپنی تلوار لے کر ان پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ لی۔ اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں پھر ان کا کلیجہ لے لیا۔ ابن جریج نے کہا: میں نے ابن شہاب سے کہا: اور کوہان بھی لیا یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کوہان تو کاٹ ہی لیے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو یہ حال دیکھا (اپنے اونٹوں کا) مجھے برا لگا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن حارثہ تھے، میں نے سب قصہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ حمزہ کے پاس پہنچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ پر غصہ ہوئے حمزہ نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہا تم ہو کیا میرے باپ دادوں کے غلام ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے یہاں تک کہ وہاں سے نکل گئے (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ حمزہ نشے میں ہے ٹھہرنا ٹھیک نہیں)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں