حدیث ۵۲۳۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۳۶

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ سَهْلٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا ، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، قَالَ : " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي " ، فَقَالُوا لَهَا : أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَتْ : لَا ، فَقَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ ، قَالَتْ : أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ سَهْلٌ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْقِنَا لِسَهْلٍ " ، قَالَ : فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ ، فَشَرِبْنَا فِيهِ ، قَالَ : ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحاَقَ ، قَالَ : اسْقِنَا يَا سَهْلُ .

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا پیغام دینے کا۔ انہوں نے پیام دیا، وہ آئی اور بنی ساعدہ کے قلعوں میں اتری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس کے پاس تشریف لے گئے، جب وہاں پہنچے دیکھا تو ایک عورت ہے سر جھکائے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات کی، وہ بولی: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں تم سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنے تئیں بچا لیا مجھ سے۔“ (یعنی اب میں تجھ سے کچھ نہیں کرنے کا)۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو جانتی ہے یہ کون شخص ہیں، وہ بولی: نہیں، میں نہیں جانتی۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول ہیں اللہ کی رحمت اور سلام ہو ان پر وہ تشریف لائے تھے تجھ سے نسبت کرنے کو، وہ بولی: میں بدقسمت تھی (جب تو میں نے پناہ مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منگنی کرنے والے کو عورت کی طرف دیکھنا درست ہے) سہل نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن آئے اور بنی ساعدہ کے چھتے میں بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سہل! ہم کو پلا۔“ سہل نے کہا: میں نے یہ پیالہ نکالا اور سب کو پلایا۔ ابوحازم نے کہا: سہل نے وہ پیالہ نکالا ہم لوگوں نے بھی اس میں پیا (برکت کے لیے) پھر عمر بن عبدالعزیز نے (اپنی خلافت کے زمانے میں) وہ پیالہ سہل سے مانگا، سہل نے دے دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں