صحیح مسلم حدیث ۵۳۵۸ - ابوایوب انصاری اور لہسن
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث: ادب، کھانا اور لہسن
صحیح مسلم : ۵۳۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۵۸
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَل ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ ، قَالَ : فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً ، فَقَالَ : نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السُّفْلُ أَرْفَقُ " ، فَقَالَ : لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا ، فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ ، فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ فَفَزِعَ ، وَصَعِدَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ . قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى .
ابوایوب انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ایک بار ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے۔بعد اس کے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیچے کا مکان آرام کا ہے۔“ (رہنے والوں کے لیے اور آنے والوں کے واسطے اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہتے ہیں)۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ رہے۔سیدنا ابوایوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے پھر جب کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے بعد اس کے بچا ہوا کھانا واپس جاتا) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ (آدمی سے) پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے پر کس جگہ پر لگی ہیں وہیں سے وہ کھاتے (برکت کے لیے) ایک بار سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا جس میں لہسن تھا جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں۔ لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا۔یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرائے اور اوپر گئے اور پوچھا: کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں لیکن مجھے بری معلوم ہوتی ہے۔“ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ کو بری معلوم ہوتی ہے مجھے بھی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتے آتے ہیں (اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی۔ اس واسطے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا واقعہ ہے۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے رہے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر تھے، مگر وہ یہ گوارا نہ کر سکے کہ وہ اس چھت پر رہیں جس کے نیچے آپ ہوں۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر تشریف لے گئے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ کھانا تیار کرتے اور آپ کے ہاتھ لگنے کی جگہ پوچھ کر وہاں سے کھاتے۔ ایک بار کھانے میں لہسن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھایا۔ پوچھنے پر فرمایا: حرام نہیں، لیکن مجھے ناپسند ہے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ جو آپ کو ناپسند ہے، مجھے بھی ناپسند ہے۔ روایت میں فرشتوں کی آمد کا ذکر بھی آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا بہت خیال رکھا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کھانے کو برکت سمجھ کر لیا جاتا تھا۔
- لہسن کو حرام نہیں کہا گیا، مگر بو کی وجہ سے ناپسند فرمایا گیا۔
- روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتوں کے آنے کا ذکر ہے۔
