حدیث ۵۳۶۴
صحیح مسلم : ۵۳۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۶۴
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى جَمِيعًا ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ " ، فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ أَوَ قَالَ أَمْ هِبَةٌ ؟ " ، فَقَالَ : لَا بَلْ بَيْعٌ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً ، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا ، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ ، قَالَ : وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا ، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ .
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس کھانا ہے؟۔“ تو ایک شخص کے پاس ایک صاع اناج نکلا۔ کسی کے پاس ایسا ہی، پھر وہ سب گوندھا گیا بعد اس کے ایک مشرک آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے لمبا بکریوں لے کر ہانکتا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بیچتا ہے یا یونہی دیتا ہے۔“ اس نے کہا: نہیں بیچتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری اس سے خریدی، اس کا گوشت تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اس کا کلیجہ بھوننے کا۔ راوی نے کہا: قسم اللہ کی ان ایک سو تیس آدمیوں میں سے کوئی نہ رہا جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس کلیجی میں سے جدا نہ کیا ہو اگر وہ موجود تھا تو اس کو دے دیا ورنہ اس کا حصہ رکھ چھوڑا اور دو پیالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت نکالا پھر ہم سب نے ان میں سے کھایا اور سیر ہو گئے بلکہ پیالوں میں کچھ بچ رہا اس کو میں نے لاد لیا اونٹ پر اور ایسا ہی کہا۔ (اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزے ہیں، ایک تو کلیجے میں برکت دوسری بکری میں برکت)۔
