صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۳ - کتا اور تصویر
جبریل علیہ السلام، کتا اور تصویر والی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۱۳
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال : أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " ، قَالَ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً ، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ : " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ ؟ " ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
میمونہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کو اٹھے چپ چپ (جیسے کوئی رنجیدہ ہوتا ہے)۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج میں نے آپ کی شکل ایسی دیکھی کہ اج تک ویسی نہیں دیکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اس رات ملنے کا مگر نہیں ملے۔ اور انہوں نے کبھی وعدہ خلاف نہیں کیا قسم اللہ کی۔“سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح رہے۔ بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال آیا ایک کتے کے بچے کا جو ہمارے ڈیرے میں تھا وہ نکال کر باہر کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور جہاں وہ کتا بیٹھا تھا وہاں پانی چھڑک دیا۔جب شام ہوئی تو جبرئیل علیہ السلام آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا گزشتہ رات کو آنے کا۔“ انہوں نے کہا: ہاں لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا ہو یا تصویر۔ پھر اس کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کتوں کے قتل کا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ کا بھی کتا قتل کرا دیا اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح خاموش اور رنجیدہ کیفیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے رات ملنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہیں آئے، اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کتے کے بچے کا خیال آیا جو ڈیرے میں تھا۔ اسے نکالا گیا اور اس کی جگہ پر پانی چھڑکا گیا۔ شام کو جبریل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس حدیث میں کتا اور تصویر والی بات کے ساتھ یہ بھی آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور جگہ کو صاف کرایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جبریل علیہ السلام کے نہ آنے کا سبب گھر میں کتے کا بچہ تھا۔
- کتے کو باہر نکال کر اس کی جگہ پر پانی چھڑکا گیا۔
- حدیث میں کتا اور تصویر دونوں کا ذکر فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے ساتھ آیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے پر توجہ فرمائی۔
