حدیث ۵۶۱۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۱۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ ابْنِي ؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَتْ : وَارُوا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا " ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَعَهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ تَمَرَاتٌ ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر گئے وہ لڑکا مر گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے، تو انہوں نے پوچھا: میرا بچہ کہاں ہے۔ ام سلیم (ان کی بی بی انس رضی اللہ عنہ کی ماں) نے کہا: اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ کنایہ ہے موت سے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں) پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں۔ انہوں نے کھایا بعد اس کے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے صحبت کی جب فارغ ہوئے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: جاؤ بچہ کو دفن کر دو۔ پھر صبح کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:“”کیا تم نے رات کو بی بی سے صحبت کی ہے۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی”یااللہ! برکت دے ان دونوں کو۔“ پھر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے لڑکا پیدا ہوا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھیجیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا: ”اس کے ساتھ کچھ ہے؟“ لوگوں نے کہا: کھجوریں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا پھر اپنے منہ سے نکال کر بچہ کے منہ میں ڈالا، پھر اس کا نام عبداللہ رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں