حدیث ۵۶۱۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۱۶

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أنهما قَالَا : " خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر ، فَقَدِمَتْ قُبَاءً ، فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ : ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ ، لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ " .

‏‏‏‏ عروہ بن الزبیر اور فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا (سیدنا زیبر کی بی بی) جب ہجرت کے لیے نکلیں تو ان کے پیٹ میں سیدنا عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ تھے وہ قبا میں آئیں (جو مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلے پر ہے) وہاں عبداللہ کو جنم دیا۔ پھر اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحنیک کریں اس کی (تحنیک اس کو کہتے ہیں کچھ چبا کر بچے کے منہ میں ڈالنا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو اسماء سے لے لیا اور اپنی گود میں رکھا پھر کھجور منگوائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چبائی اور عبداللہ کے منہ میں تھوک دی تو سب سے پہلے جو عبداللہ کے پیٹ میں گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا۔ اسماء نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا۔ جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو زبیر کے اشارے سے وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا پھر ان سے بیعت کی (برکت کے لیے کیونکہ وہ کمسن تھے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں