حدیث ۵۶۲۲
صحیح مسلم : ۵۶۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۲
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . ح وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : كَانَ فَطِيمًا ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ ، قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ : مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ ، قَالَ : فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوش مزاج تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کو اب ابوعمیر کہتے تھے (اس سے معلوم ہوا کہ کمسن کو اور جس کے بچہ نہ ہوا ہو کنیت رکھنا درست ہے) میں سمجھتا ہوں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کا دودھ چھڑایا گیا تھا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور اس کو دیکھتے تو فرماتے: ”اے ابا عمیر! نغیر کہاں ہے؟“ (نغیر لال کو کہتے ہیں) اور وہ لڑکا لال سے کھیلتا تھا۔
