حدیث ۵۷۰۷
صحیح مسلم : ۵۷۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۰۷
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وقَالَ زُهَيْرٌ : وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جب ہم سے کوئی بیمار ہوتا تو اپنا داہنا ہاتھ اس پر پھیرتے پھر فرماتے۔۔۔ «أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا» یعنی ”دور کر دے بیماری کو اے مالک لوگوں کے اور تندرستی دے، تو شفا دینے والا ہے، شفا تیری ہی شفا ہے، ایسی شفا دے کہ بالکل بیماری نہ رہے“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ویسا ہی کرنے کو جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے (یعنی میں نے ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھیروں اور یہ دعا پڑھوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الأَعْلَى» ”یااللہ! بخش دے مجھ کو اور مجھ کو بلند رفیق کے ساتھ کر۔“ (یعنی فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر جو میں دیکھنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہو گیا تھا (یعنی وفات پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلایا۔ «إِنَّا لِلَّـہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ»)۔
