حدیث ۵۷۶۹
صحیح مسلم : ۵۷۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ ، فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ ، قَالَتْ : كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب ان کے گھر میں کوئی مر جاتا تو عورتیں جمع ہوتیں، پھر چلی جاتیں، صرف ان کے گھر والے اور خاص لوگ رہ جاتے، اس وقت وہ حکم کرتیں ایک ہانڈی کا تلبینہ کے (تلبینہ حریرہ بھوسی یا آٹے کا کبھی اس میں شہد بھی ملاتے ہیں) پھر وہ پکتا اس کے بعد ثرید تیار ہوتا (روٹی اور شوربا) اور تلبینہ کو اس پر ڈال دیتیں پھر وہ کہتیں عورتوں سے کھاؤ اس کو کیونکہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تلبینہ بیمار کے دل کو خوش کرتا ہے اور اس کے پینے سے کچھ رنج گھٹ جاتا ہے۔“
