حدیث ۵۷۹۱

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۹۱

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَا عَدْوَى " ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ : لَا عَدْوَى ، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصح ، قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ : قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ ، كُنْتَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى " ، فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ : أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ أَبَيْتُ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى " ، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَة أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ

‏‏‏‏ سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری نہیں لگتی۔“ اور ابوسلمہ یہ حدیث بھی بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ لایا جائے بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے پاس۔“ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دونوں حدیثوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے، پھر بعد اس کے انہوں نے یہ حدیث کہ بیماری نہیں لگتی اس کو چھوڑ دیا بیان کرنا اور یہ بیان کرتے رہے نہ لایا جائے بیمار اونٹ تندرست اونٹ پر۔ تو حارث بن ابی ذہاب نے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی تھا ان سے کہا: اے ابوہریرہ! ہم سنا کرتے تھے تم اس حدیث کے ساتھ دوسری ایک حدیث بھی بیان کرتے تھے اب تم اس کو نہیں بیان کرتے، وہ یہ حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری نہیں لگتی“۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور کہا میں اس حدیث کو نہیں پہچانتا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”نہ لایا جائے بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے اوپر۔“ حارث نے ان سے جھگڑا کیا اس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے ہوئے انہوں نے حبش کی زبان میں کچھ کہا، پھر حارث سے پوچھا تم سمجھتے ہو میں نے کیا کہا۔ حارث نے کہا نہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہی کہا کہ میں انکار کرتا ہوں اس حدیث کے بیان کرنے کا۔ ابوسلمہ نے کہا: میری عمر کی قسم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے اس حدیث کو بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری لگنا کوئی چیز نہیں“ پھر معلوم نہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بھول گئے یا ایک حدیث سے دوسری حدیث کو انہوں نے منسوخ سمجھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں