حدیث ۵۸۷۸
صحیح مسلم : ۵۸۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸۷۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : لَقِسَتْ نَفْسِي " ، هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَكِنْ ،
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نہ کہے: میرا نفس خبیث ہو گیا (یعنی پلید اور نجس) بلکہ یوں کہے: میرا نفس کاہل اور سست ہو گیا“۔ (خبیث اور پلید کافر کا لقب ہے اور بہت کریہہ لفظ ہے اس لیے مسلمان کو اپنے تئیں یہ لفظ کہنے سے منع کیا ہے اور ایک حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ پھر صبح کو اٹھتا ہے خبیث النفس تو وہ غیر کی صفت ہے اور شخص مبہم کا بیان ہے ایسا اطلاق منع نہیں)۔
