حدیث ۵۹۲۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۲۸

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّوَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ ، فَالْمُسْتَكْثِرُ ، وَالْمُسْتَقِلُّ ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ ، وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اعْبُرْهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمَّا الظُّلَّةُ ، فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ ، فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ بَعْضًا ، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ، قَالَ : فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ، قَالَ : لَا تُقْسِمْ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا ایک ابر کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے لوگ اس کو اپنی لپوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے کوئی کم اور میں نے دیکھا آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، پھر اور ایک شخص نے تھاما وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر اور ایک شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا، پھر اور ایک شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی پھر وہ جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میر باپ آپ پر قربان ہو، مجھے اس کی تعبیر کہنے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا کہہ۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ ابر کا ٹکڑا تو اسلام ہے۔ گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعض کو بہت قرآن یاد ہے اور بعض کو کم اور رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین پر اپنے پاس بلا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اس کو تھامے گا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ) وہ بھی اسی طرح سے چڑھ جائے گا پھر ایک اور تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا پھر ایک شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ آخر خلل مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا اور مجھ سے بیان کیجئیے یا رسول اللہ! میں نے ٹھیک تعبیر کی یا غلط۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ تو نے ٹھیک کہا کچھ تو نے غلط کہا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آپ بیان کیجئیے میں نے کیا غلطی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مت کھا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں