حدیث ۵۹۴۸
صحیح مسلم : ۵۹۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۴۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُصُوهَا ، فَخَرَصْنَاهَا ، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ : أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ ، فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا ، كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا ؟ فَقَالَتْ : عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُسْرِعٌ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : هَذِهِ طَابَةُ ، وَهَذَا أُحُدٌ ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ ، دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلَنَا آخِرًا ، فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا ، فَقَالَ : أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ " .
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب تبوک کی جنگ تھی تو وادی القریٰ (ایک مقام ہے مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر شام کے راستہ میں) میں ایک باغ پر پہنچے، جو ایک عورت کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندازہ کرو اس باغ میں کتنا میوہ ہے۔“ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”تو یہ گنتی یاد رکھنا جب تک ہم لوٹ کر آئیں، اگر اللہ چاہے۔“ پھر ہم لوگ آگے چلے، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات زور کی آندھی چلے گی تو کوئی کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کو مضبوط باندھ دے۔“ پھر ایسا ہی ہوا زور کی آندھی چلی، ایک شخص کھڑ ا ہوا، اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور طے کے دو پہاڑوں میں ڈال دیا، اس کے بعد علماء کے بیٹے کا ایلچی جو ایلہ کا حاکم تھا آیا ایک کتاب لے کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر تحفہ لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی۔ پھر ہم لوٹے یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا، کتنا میوہ نکلا؟ اس نے کہا: پورا دس وسق نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جلدی جاؤں گا تم میں سے جس کا جی چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے، اور جس کا جی چاہے ٹھہر جائے۔“ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دکھلائی دینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ ہے۔ (طابہ مدینہ منورہ کا نام) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”انصار کے سب گھروں میں بنی نجار کے گھر بہتر ہیں، (کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے)، پھر بنی عبدالاشہل کا گھر، پھر بنی حارث بن خزرج کا گھر، پھر بنی ساعدہ کا گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے۔“ پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے، ابواسید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم نے نہیں سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان کی تو ہم کو سب کے اخیر کر دیا، یہ سن کر سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کو یہ کافی نہیں ہےکہ تم اچھوں میں رہے۔“
