حدیث ۶۱۴۲
صحیح مسلم : ۶۱۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۴۲
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم زیادہ حق رکھتے ہیں شک کرنےکا ابراہیم علیہ السلام سے۔ جب انہوں نے کہا: اے پروردگار! مجھ کو دکھلائے تو کیونکر جلاتا ہے مردوں کو، پروردگار نے فرمایا: کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ ابراہیم علیہ السلام بولے: کیوں نہیں مجھ کو یقین ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تشفی ہو جائے (علم الیقین سے عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہو جائے) اور رحم کرے اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر وہ پناہ چاہتے تھے، مضبوط سخت کی اور جو میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی مدت یوسف علیہ السلام رہے تو فوراً بلانے والے کے ساتھ چلا آتا۔“
