حدیث ۶۱۴۹
صحیح مسلم : ۶۱۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۴۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، قَالَ : فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ ، فَفَقَأَهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ : إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ ، لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي ، فَقُلِ الْحَيَاةَ تُرِيدُ ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ تَمُوتُ ، قَالَ : فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ ، رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ : " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت کے فرشتے (عزرائیل علیہ السلام) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور عرض کیا، اے موسیٰ! اپنے پروردگار کے پاس چلو۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کی آنکھ پر ایک طمانچہ مارا، جس سے آنکھ پھوٹ گئی، وہ لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور عرض کیا، اے مالک! تو نے مجھ کو ایسے بندے کے پاس بھیجا کہ مرنا نہیں چاہتا، اس نے میری آنکھ پھوڑ دی، اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پھر درست کر دی اور فرمایا: پھر جا میرے بندے کے پاس، کہہ اگر تو جینا چاہتا ہے تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھ، اور جتنے بالوں کو تیرا ہاتھ ڈھانپ لے اتنے برس تو اور جی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، اس کے بعد کیا ہو گا؟ فرمایا: اس کے بعد پھر مرے گا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تو ابھی مرنا بہتر ہے۔ اے مالک میرے! مجھ کو مقدس زمین سے ایک پتھر کی مار کے فاصلہ پر مار۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اگر میں وہاں ہوتا تو میں تم کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر بتا دیتا راہ کے ایک جانب پر لال لمبی ریتی کے پاس۔“
