حدیث ۶۱۵۱
صحیح مسلم : ۶۱۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۵۱
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ ، أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ ، أَوْ لَمْ يَرْضَهُ ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، قَالَ : فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَطَمَ وَجْهَهُ ، قَال : تَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، قَالَ : فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّ لِي ذِمَّةً ، وَعَهْدًا ، وَقَالَ : فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ، قَالَ : قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ ، أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، آخِذٌ بِالْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي ، أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولُ ، إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک یہودی کچھ مال بیچ رہا تھا، اس کو قیمت دی گئی تو وہ راضی نہ ہوا یا اس نے برا جانا تو بولا: نہیں، قسم اس کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چنا آدمیوں میں سے، یہ لفظ ایک انصاری نے سنا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور کہا: تو کہتا ہے موسیٰ علیہ السلام کو آدمیوں میں سے چنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں موجود ہیں۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابو القاسم! میں ذمی ہوں اور امان میں ہوں، مجھ کو فلاں شخص نے طمانچہ مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا: تو نے اس شخص کو کیوں طمانچہ مارا؟ وہ بولا: یا رسول اللہ! یہ کہنے لگا: قسم اس کی جس نے برگزیدہ کیا اور چن لیا موسیٰ علیہ السلام کو آدمیوں میں، اور آپ ہم لوگوں میں تشریف رکھتے ہیں (اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے آپ کا رتبہ زیادہ ہے، اس لیے میں نے اس کو مارا) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہونے لگا، پھر فرمایا: ”مت فضیلت دو ایک پیغمبر کو دوسرے پیغمبر پر (اس طرح سے کہ دوسرے پیغمبر کی شان گھٹے) کیونکہ قیامت کے دن جب صور پھونکا جائے گا تو جتنے لوگ ہیں آسمانوں اور زمین میں سب بےہوش ہو جائیں گے مگر جن کو اللہ تعالیٰ چاہے گا (وہ بےہوش نہ ہوں گے)۔ پھر دوسری بار پھونکا جائے گا، تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا اور کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش تھامے ہوئے ہیں، اب معلوم نہیں کہ طور پہاڑ پر جو ان کو بےہوشی ہوئی تھی وہ اس کا بدلہ ہے، (اور اس بار وہ بےہوش نہ ہوں گے) یا مجھ سے پہلے ہوشیار ہو جائیں گے، اور میں یوں نہیں کہتا کہ کوئی پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔“
