حدیث ۶۲۱۲
صحیح مسلم : ۶۲۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ ، يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ ، قَالَ : فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، قَالَ : فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : وَقُلْتُ : الَّذِي قَالَ : فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوِ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی باغ میں تھے تکیہ لگائے ہوئے اور ایک لکڑی کو کیچڑ میں کھونس رہے تھے، اتنے میں ایک شخص نے دروازہ کھلوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھول دے اور اس کو جنت کی خوشخبری دے۔“ میں جو کھولنے گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی، پھر دوسرے شخص نے دروازہ کھلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھول دے اور اس کو خوشخبری دے جنت کی۔“ میں گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دروازہ کھول دیا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی، پھر تیسرے شخص نے دروازہ کھلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھول دے اور اس کو جنت کی خوشخبری دے اور اس پر ایک بلویٰ ہو گا۔“ میں گیا تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی اور بلویٰ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: یا اللہ! مجھ کو صبر دے اور تو ہی مددگار ہے۔
