صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۵ - اسامہ کے ساتھ اچھا سلوک

اسامہ بن زید کی حدیث: امارت، محبت اور اچھے سلوک کی وصیت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ " .

سالم روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”اگر تم طعنہ کرتے ہو اس کی امارت میں۔ مراد سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ البتہ تم طعنہ کر چکے ہو اس کے باپ کی سرداری میں بھی، اللہ کی قسم! وہ اس سرداری کے لائق تھا اور سب لوگوں میں وہ میرا زیادہ پیارا تھا۔ اور اللہ کی قسم! اب اس کے بعد اسامہ سب لوگوں میں مجھے زیادہ پیارا ہے۔ اور میں تم کو وصیت کرتا ہوں اسامہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وہ تم میں نیک بخت لوگوں میں سے ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی امارت پر ہونے والے اعتراض کا ذکر ہے، مگر اس میں ایک اضافی بات بھی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم اسامہ کی امارت پر طعن کرتے ہو تو پہلے ان کے والد کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ زید رضی اللہ عنہ اس کام کے لائق تھے اور آپ صلى الله عليه وسلم کو بہت محبوب تھے۔ اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ اس امارت کے لائق ہیں، ان کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کو بہت محبوب ہیں، اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت فرمائی۔ اسامہ بن زید کی امارت کی حدیث قیادت کی حدیث بھی ہے اور اچھے سلوک کی حدیث بھی۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم نے تنقید کا جواب دیا اور ایک صحابی کے حق میں انصاف اور خیر خواہی کا انداز دکھایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کی اہلیت کو واضح فرمایا۔
  • کسی مسلمان پر اعتراض کرتے وقت انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت فرمائی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں