صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۲ - نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات اور عائشہؓ کی باری
وفاتِ نبوی صلى الله عليه وسلم: عائشہؓ کی باری اور آخری لمحہ
صحیح مسلم : ۶۲۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۲
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَفَقَّدُ ، يَقُولُ : " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ ، أَيْنَ أَنَا غَدًا ، اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي ، قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کرتے تھے (بیماری میں) اور فرماتے تھے: ”کل میں کہاں ہوں گا، کل میں کہاں ہوں گا؟“ یہ خیال کر کے کہ ابھی میری باری میں دیر ہے، پھر میری باری کے دن اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیا میرے سینہ اور حلق میں (یعنی آپ کا سر مبارک میرے سینہ سے لگا ہوا تھا)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بیماری کے دنوں میں پوچھتے تھے: کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ اس سے عائشہؓ سمجھتی ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم ان کی باری کا انتظار فرما رہے ہیں۔ پھر جب عائشہؓ کی باری کا دن آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو بلا لیا، اس حال میں کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا سر مبارک ان کے سینہ اور حلق کے درمیان تھا۔ یہ روایت بہت نازک اور محبت بھرا آخری منظر بیان کرتی ہے۔ اس کا مرکزی موضوع وفاتِ نبوی صلى الله عليه وسلم، عائشہؓ کا مقام، اور آخری بیماری کا حال ہے۔ اس میں صرف وہی بات کہنی چاہیے جو متن میں آئی ہے، یعنی باری، بیماری، اور وفات کے وقت عائشہؓ کا قرب۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم بیماری میں عائشہؓ کی باری کا انتظار فرماتے تھے۔
- وفات کے وقت عائشہؓ کو خاص قرب حاصل ہوا۔
- روایت آخری بیماری کے ایک خاص منظر کو بیان کرتی ہے۔
