حدیث ۶۳۰۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۰۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي ، وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا ، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا " .

‏‏‏‏ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کے لیے سیدنا علی بن ابی طالب سے (یعنی ابوجہل کی بیٹی کا جس کے نکاح کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیام دیا تھا) تو میں اجازت نہ دوں گا، نہ دوں گا، نہ دوں گا البتہ اس صورت میں اجازت دیتا ہوں کہ علی میری بیٹی کو طلاق دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں اس لیےکہ میری بیٹی ایک ٹکڑا ہے میرا۔ شک میں ڈالتا ہے مجھ کو جو اس کو شک ڈالتا ہے اور ایذا ہوتی ہے مجھ کو جس سے اس کو ایذا ہوتی ہے۔“ (اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا ہر حال میں حرام ہے اگرچہ ایذا کا سبب امر مباح ہو، دوسرا نکاح کرنا اگرچہ جائز تھا لیکن جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے رنج ہوتاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رنج کی وجہ سے رنج ہوتا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا، بوجہ کمال شفقت کے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا پر دوسرے یہ کہ شاید سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی فتنہ میں پڑ جاتیں رشک کی وجہ سے جو عورتوں کا طبعی امر ہے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں