حدیث ۶۳۵۵
صحیح مسلم : ۶۳۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۵۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ ، فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَأَبْكِي ، وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي ، قَالَ : وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو ، تَبْكِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبْكِيهِ ، أَوْ لَا تَبْكِيهِ ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میرا باپ شہید ہوا احد کے دن تو میں اس کے منہ پر سے کپڑا اٹھاتا اور روتا، لوگ مجھے منع کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے اور فاطمہ عمرو رضی اللہ عنہ کی بیٹی (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو روئے یا نہ روئے فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے یہاں تک کہ تم نے اس کو اٹھایا۔“
