حدیث ۶۳۶۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۶۵

حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ ، وَالشَّامِيَّةِ ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ " .

‏‏‏‏ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ایک بت خانہ تھا (یمن میں) جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور کعبہ یمانی یا کعبہ شامی بھی اس کا نام تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے جریر! تو مجھے بےفکر کرتا ہے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانی اور شامی کی طرف سے۔“ (یعنی اس کو تباہ اور برباد کر کہ لوگ شرک سے باز آئیں) میں ایک سو پچاس آدمی احمس قبیلے کے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ذوالخلصہ کو توڑا اور جتنے لوگوں کو وہاں پایا قتل کیا، پھر لوٹ کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اور احمس کے قبیلے کے لیے دعا کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں