حدیث ۶۳۷۰
صحیح مسلم : ۶۳۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۷۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لعبد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ ، فَقَالَ لِي : لَمْ تُرَعْ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ مجھے بھی آرزو تھی کوئی خواب دیکھوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں اور میں لڑکا تھا جوان مجرد۔ میں مسجد میں سویا کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، میں نے خواب دیکھا، جیسے دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہے اور جہنم کی طرف لے گئے، دیکھا تو پیچ در پیچ گہری ہے کنویں کی طرح اور اس پر دو لکڑیاں ہیں جیسے کنویں پر ہوتی ہیں اس میں کچھ لوگ ہیں جن کو میں نے پہچانا۔ میں نے کہنا شروع کیا: اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، پھر اور ایک فرشتہ ملا اور وہ بولا: تجھےکچھ خوف نہیں۔ یہ خواب میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ اچھا آدمی ہے اگر رات کو تہجد پڑھا کرے۔“ سالم نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد رات کو نہیں سوتے تھے مگر تھوڑی دیر (اور تہجد پڑھتے تھے)۔
