حدیث ۶۴۱۰
صحیح مسلم : ۶۴۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۱۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ، إِمَّا قَالَ : بِضْعًا ، وَإِمَّا قَالَ : ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، قَالَ : فَرَكِبْنَا سَفِينَةً ، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ ، فَأَقِيمُوا مَعَنَا ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا ، قَالَ : فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ ، قَالَ : أَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا ، إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا لِأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، يَقُولُونَ لَنَا : يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ،
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ ہم نے یمن میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلے ہجرت کر کے، میں تھا اور دو میرے چھوٹے بھائی تھے۔ ایک کا نام ابوبردہ تھا اور دوسرے کا نام ابورہم اور چند آدمی تریپن یا باون آدمی ہماری قوم کے تھے تو ہم ایک کشتی میں سوار ہوئے، وہ کشتی حبش کی طرف چلی گئی جہاں کا بادشاہ نجاشی تھا وہاں ہم کو جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی ملے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہاں بھیجا ہے اور فرمایا ہے: یہاں ٹھہرو تو تم بھی ہمارے ساتھ ٹھہرو۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم انہیں کے ساتھ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ہم سب لوگ مل کر مدینہ کو آئے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تھا تو ہمارا حصہ لگایا وہاں کی لوٹ میں سے جو شخص خیبر کی لڑائی سے غائب تھا اس کو حصہ نہ ملا سوا ئے ہماری کشتی والوں کے جو جعفر اور ان کے اصحاب کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ لگایا۔ بعض لوگ کہنے لگے: ہم تم سے پہلے ہجرت کر چکے تھے۔
