حدیث ۶۴۲۷
صحیح مسلم : ۶۴۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۲۷
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : " أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ ، فَأَرَادَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ : اجْلِسْ أَلَا تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى ، فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى ، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ایک بڑی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو انصار کا بہتر گھر بتاؤں۔“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو عبدالاشہل۔“ لوگوں نے کہا: پھر کون سا گھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی نجار۔“ لوگوں نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی حارث بن خزرج۔“ لوگوں نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی ساعدہ۔“ لوگوں نے کہا: پھر کون یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے ہر ایک گھر میں بہتری ہے۔“ یہ سن کر سعد بن عبادہ غصہ سے کھڑے ہوئے اور کہا: کیا ہم چاروں کے اخیر میں ہیں۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا سنا تو چاہا آپ کی بات پر اعتراض کرنا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے کہا: بیٹھ، تو اس بات سے راضی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا گھرانہ ان چاروں میں رکھا جن کو بیان کیا۔ اور جن گھروں کو بیان نہ کیا وہ بہت سے ہیں تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔
