حدیث ۶۵۰۹
صحیح مسلم : ۶۵۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۹
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ ، عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً ، فَكَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ، فَانْصَرَفَتْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ، فَانْصَرَفَتْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ ، فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا ، فَقَالَتْ : إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ ، قَالَ : فَتَعَرَّضَتْ لَهُ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا ، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ ، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ ، فَلَمَّا وَلَدَتْ ، قَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ ، فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ ، وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ ، فَقَالَ : أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَاءُوا بِهِ ، فَقَالَ : دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ ، فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ ، وَقَالَ يَا غُلَامُ : مَنْ أَبُوكَ ، قَالَ : فُلَانٌ الرَّاعِي ، قَالَ : فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ ، وَقَالُوا : نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : لَا ، أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ ، فَفَعَلُوا ، وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ ، فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا ، فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ ، فَجَعَلَ يَمُصُّهَا ، قَالَ : وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ ، تَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا ، فَتَرَكَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا ، وَيَقُولُونَ : زَنَيْتِ سَرَقْتِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا ، فَقُلْت : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، قَالَ : إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ ، وَلَمْ تَزْنِ ، وَسَرَقْتِ ، وَلَمْ تَسْرِقْ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی لڑکا جھولے میں (یعنی شیرخوارگی میں) نہیں بولا: مگر تین لڑکے۔ ایک تو عیسی علیہ السلام، دوسرے جریج کا ساتھی۔ اور جریج کا قصہ یہ ہے کہ وہ ایک عابد شخص تھا سو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اسی میں رہتا تھا۔ اس کی ماں آئی وہ نماز پڑھ رہا تھا، ماں نے پکارا: اے جریج! وہ بولا: اے رب! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا اس کی ماں پھر گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہو ا، پھر آئی اور پکارا: اے جریج! وہ بولا: یا اللہ! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا۔ اس کی ماں بولی: یا اللہ! اس کو مت مارنا جب تک بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھے۔ پھر بنی اسرائیل نے جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا شروع کیا۔ اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی سے مثال دیتے تھے۔ وہ بولی: اگر تم کہو تو میں جریج کو بلا میں ڈال دوں، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی، لیکن جریج نے اس طرف خیال بھی نہ کیا۔ آخر وہ ایک چروا ہے کے پاس آئی جو جریج کے عبادت خانہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا اور اجازت دی اس کو اپنے سے صبحت کرنے کی، اس نے صبحت کی وہ پیٹ سے ہوئی اور جب بچہ جنا تو بولی: کہ یہ بچہ جریج کا ہے لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے اور اس سے کہا: اتر اور اس کا عبادت خانہ گرا دیا اور اس کو مارنے لگے وہ بولا: کیا ہو ا تم کو؟ انہوں نے کہا: تو نے زنا کیا اس بدکار عورت سے، وہ ایک بچہ بھی جنی ہے تجھ سے۔ جریج نے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے، جریج نے کہا: ذرا مجھ کو چھوڑو میں نماز پڑھ لوں، پھر نماز پڑھی اور آیا اس بچہ کے پاس اور اس کے پیٹ کو ایک ٹھونسا دیا اور بولا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا: فلانا چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ دوڑے جریج کی طرف اور اس کو چومنے چاٹنے لگے اور کہنے لگے تیرا عبادت خانہ ہم سونے سے بنا دیتے ہیں۔ وہ بولا: نہیں مٹی سے پھر بنا دو جیسا تھا۔ لوگوں نے بنا دیا۔ تیسرا ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا اتنے میں ایک سوار نکلا عمدہ جانور پر ستھری پوشاک والا۔ اس کی ماں نے کہا:: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا۔ بچے نے یہ سن کر چھاتی چھوڑ دی اور اس سوار کی طرف دیکھا اور کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا، پھر چھاتی میں جھکا اور دودھ پینے لگا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہو ں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے دودھ پینے کی نقل کرتے تھے اس طرح پر کہ کلمہ کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر چوستے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر نکلےجس کو مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے: تو نے زنا کرایا اور چوری کی۔ وہ کہتی تھی: اللہ مجھے کفایت کرتا ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ بچے کی ماں بولی: یا اللہ! میرے بچہ کو اس لونڈی کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس لونڈی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا: یا اللہ! مجھ کو اس لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی۔ ماں نے کہا: او سر منڈے! جب ایک شخص اچھی صورت والا نکلا اور میں نے کہا: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی کو لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، تو میں نے کہا: یا اللہ! میرے بچے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ تو کہتا ہے: یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے؟)۔ بچہ بولا: وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح نہ کرنا اور لونڈی پر لوگ تہمت کرتے ہیں، کہتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، حالانکہ نہ اس نے زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے، تو میں نے کہا: یا اللہ! مجھ کو اس کے مثل بنا۔“
