صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۶ - نزع کے وقت اللہ سے ملاقات

نزع کے وقت اللہ سے ملاقات: حدیث کا صحیح مفہوم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۲۶

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ الْهَالِكَ مَنْ هَلَكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، فَقَالَتْ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ ، وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ وَتَشَنَّجَتِ الْأَصَابِعُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ میں یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اگر وہ حدیث ٹھیک ہو تو ہم سب تباہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے سے جو ہلاک ہوا وہی حقیقت میں ہلاک ہوا۔ کہہ تو وہ کیا ہے؟میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنا نہیں چاہتا اللہ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا۔“ اور ہم میں سے تو کوئی ایسا نہیں ہے جو مرنے کو برا نہ سمجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو تو سمجھتا ہے بلکہ جب آنکھیں پھر جائیں اور دم رک جائے سینہ میں اور روئیں بدن پر کھڑی ہو جائیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو جائیں (یعنی نزع کی حالت میں) اس وقت جو اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۶ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت اہم سوال کا جواب دیتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی کہ جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو ناپسند کرے، اللہ بھی اس سے ناپسند فرماتا ہے۔ شریح بن ہانی رحمہ اللہ کو خیال ہوا کہ ہم میں سے ہر شخص موت کو ناپسند کرتا ہے، تو کیا پھر سب کا معاملہ خطرے میں ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت فرمائی کہ مطلب یہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ انہوں نے نزع کی حالت کا ذکر کیا: آنکھوں کا پھرنا، سانس کا رکنا، بدن کے رونگٹے کھڑے ہونا اور انگلیوں کا ٹیڑھا ہونا۔ اس وقت بندے کا اللہ سے ملاقات کے بارے میں حال مراد ہے۔ اس سے حدیث کا مطلب بہت صاف ہو جاتا ہے کہ عام موت سے گھبراہٹ اور آخری وقت کے ایمانی حال میں فرق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوال کرنے سے حدیث کا صحیح مطلب واضح ہو سکتا ہے۔
  • موت کو عام طور پر ناپسند کرنا اس وعید کا اصل محل نہیں۔
  • حدیث میں نزع کی حالت کے وقت بندے کے حال کا ذکر ہے۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے معنی کو غلط فہمی سے بچایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں