حدیث ۶۸۵۷
صحیح مسلم : ۶۸۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۵۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ ، قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ " ، قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ " ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ایک حلقہ دیکھا (لوگوں کا) پوچھا: تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں اللہ تعالیٰ کی یاد کرنے کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس لیے بیٹھے ہو یا اور بھی کچھ کام کے لیے؟ وہ بولے: نہیں اللہ کی قسم! صرف اللہ کی یاد کے لیے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تم کو اس لیے قسم نہیں دی کہ تم کو جھوٹا سمجھا اور میرا جو رتبہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس رتبہ کے لوگوں میں کوئی مجھ سے کم حدیث روایت کرنے والا نہیں (یعنی میں سب لوگوں سے کم حدیث سے روایت کرتا ہوں) ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے حلقہ پر نکلے اور پوچھا: ”تم کیوں بیٹھے ہو“ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں اللہ جل وعلا کی یاد کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اور شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہم کو اسلام کی راہ بتلائی اور ہمارے اوپر احسان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم کہ تم اس لیے بیٹھے ہو یا اور کسی کام کی لیے؟ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم تو صرف اسی واسطے بیٹھے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو اس لیے قسم نہیں دی کہ تم کو جھوٹا سمجھا بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی فضیلت بیان کر رہا ہے فرشتوں کے سامنے۔“
