حدیث ۶۹۳۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۳۶

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الِاسْتِعْجَالُ ؟ ، قَالَ يَقُولُ : " قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يَسْتَجِيبُ لِي ، فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعَاءَ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک وہ گناہ یا ناتا توڑنے کی دعا نہ کرے اور جلدی نہ کرے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! جلدی کے کیا معنی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہے میں نے دعا کی میں نہیں سمجھتا کہ وہ قبول ہو پھر ناامید ہو جائے اور دعا چھوڑ دے۔“ (یہ مالک کو ناگوار ہوتا ہے پھر وہ قبول نہیں کرتا، بندے کو چاہیے کہ اپنے مالک سے ہمیشہ فضل و کرم کی امید رکھے۔ اگر دنیا میں دعا نہ قبول ہو گی تو آخرت میں اس کا صلہ ملے گا)۔ باب: جنتیوں اور دوزخیوں کا بیان

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں