حدیث ۶۹۴۸
صحیح مسلم : ۶۹۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۴۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ : لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا (ظاہر میں) شیریں اور سبز ہے (جیسے تازہ میوہ) اللہ تعالیٰ تم کو حاکم کرنے والا ہے دنیا میں، پھر دیکھے گا تم کیسے عمل کرتے ہو، تو بچو دنیا سے (یعنی ایسی دنیا جو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے) اور بچو عورتوں سے اس لیے کہ اول فتنہ بنی اسرائیل کا عورتوں سے شروع ہوا۔ باب: غار والوں کا قصہ
